کلبرگی :8؍فروری(ایس اؤ نیوز) ریاست میں کنڑا زبان اور تہذیب کی ترقی ، ترویج، فروغ اور سرکاری دفاتر کے کام کاج میں کنڑا زبان کے استعمال پر زور دینے کے علاوہ کئی اہم مقاصد کو لے کرحکومتی ادارے ’کنڑا ساہتیہ پریشد ‘ کی جانب سے ہرسا ل سہ روزہ اکھیل بھارت کنڑا ساہتیہ سمیلن (قومی سطح کا ادبی اجلاس ) منعقد کیاجاتا ہے۔ امسال 85واں کنڑا ادبی اجلاس شمالی کرناٹکا کے اہم مقام کلبرگی میں 5،6،7فروری کو منعقد ہوا۔ کنڑا ادب،زبان اور شاعری کے معروف ادیب،نقاد ، شاعر ایچ ایس وینکٹیش مورتی کو ادبی اجلاس کے صدر کی حیثیت سے منتخب کیاگیا تھا۔اجلاس میں کنڑازبان کے علاوہ تہذیب، ثقافت، ادب، شاعری ، سماجی حالات، سیاسی حالات سمیت کئی ایک موضوعات پر مذاکرے منعقد ہوئے۔ اجلاس کے پہلے دن شہریت قانون کی مخالفت میں نظم پیش کرنے اور ڈرامہ پیش کرنے والوں کے خلاف مقدمات درج کرنے کی مذمت کی گئی اور اُن مقدمات کو واپس لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
تین روزہ کنڑا ادبی اجلاس کا افتتاح ریاستی وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا نے کیا جس کے بعد خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا کہ پرائیویٹ اسکولوں میں کنڑا زبان کی لازمی تدریس اور سرکاری اسکولوں کو مستحکم کرنےکے لئے حکومت پابند ہے۔ جہاں تک کرناٹکا کا سوال ہے ہم ریاست کی زمین، پانی اور تشخص کے ساتھ کوئی سمجھوتا نہیں کریں گے۔
84ا ویں اجلاس کی افتتاحی تقریب میں ادبی اجلاس کے صدر چندر شیکھر کمبار نے نومنتخب صدر وینکٹیش مورتی کو کنڑا پرچم منتقل کرنے کے بعد خطاب کرتےہوئے کہاکہ حکومت کنڑا کمپیوٹرٹکنالوجی کو ترجیح دیتے ہوئے اس کو ترقی دے اور بین الاقوامی سطح کے ٹی وی چینلس جو معلومات اور جانکاری دے رہے ہیں وہ کنڑا والوں کو بھی ملے۔انہوں نے کہاکہ بھارت کئی تہذیبوں پر مشتمل ہونے کے باوجود اتحاد کو اپنا تشخص بنا یا ہے۔اسی اتحاد کو پارہ پارہ کرنے اور یہاں کی تہذیبوں کو برباد کرنے کے لئے برطانیہ کی پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے کہاتھا کہ بھارت میں انگریزی زبان کوسیکھنا لازمی قرار دیاجائے۔ ہمارے ہاں موجود ذات پات کے نظام اور کروڑوں دیوئیوں کے قسم قسم کے کیلنڈر انہوں نے دئیے تو ہم نے مان لیا ، تب انگریزو ں نے ہمیں ذات، دھرم کے نام پر تقسیم کرنا شروع کیا۔ اسی طرح انہوں نے نے فلموں کی ڈبنگ کی حمایت کی۔
ادبی اجلاس کے صدر ایچ ایس وینکٹیش مورتی نے اپنے لکھے ہوئے مقالے کی خواندگی کرنے کے بجائے اہم موضوعات جیسے ادب، تہذیب ، سماجی حالات اور رشوت خوری پرمشتمل اپنے خیالات کو ہی پیش کرنے پر اکتفا کیا اور حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ انگریزی میڈیم اسکولوں کے قیام کی بے وقوفی نہ کرے۔ پرائیویٹ اسکولوں کی تاجرانہ پالیسی کی وجہ سے کنڑا زبان کرناٹک میں کمزور ہورہی ہے اور حکومت کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کی وجہ سے کنڑا میڈیم اسکولوں کا عجیب حال ہوگیا ہے۔ پرائیویٹ اسکول کی سرمایہ دار ، انتظامیہ حقوق کے بہانے عدالت چلے جاتے ہیں۔ دراصل سرمایہ دار تعلیمی ادارے علم پھیلانے کے لئے نہیں بلکہ اپنا دھندہ بڑھانےکی فکر میں مگن رہتے ہیں۔ انہوں نے ایسے اداروں کو لتاڑتے ہوئے کہاکہ تعلیم تجارت نہیں ہے ، بلکہ وہ چال چلن اور سالمیت کے ساتھ شخصی تعمیر کرنے والا ادارہ ہے۔ موجودہ دور میں زندگی کے گزارے کے لئے انگریزی ضروری ہونے کا دعویٰ کیا جاتاہے، لیکن میں انہیں سوال کرتاہوں کہ اگر آپ کا دعویٰ صحیح ہے تو بتائیے کہ ہمارے کسان انگریزی جانے بغیر زندگی کا سامان جٹانے میں لگے ہوئے ہیں انہیں کیا کہیں گے؟۔
ہندی زبان کو پورے ملک پر تھوپے جانے کی سخت مخالفت کرتے ہوئے وینکٹیش مورتی نے ملک کی ریاستوں کے درمیان آسانی کے ساتھ رابطہ پیدا کرنے کے لئے ایک زبان ضروری قرار دینے والوں سے سوال پوچھا کہ وہ صرف ہندی ہی کیوں ؟ دوسری زبان کیوں نہیں۔ سہ لسانی فارمولے کے تحت ہندی کو ہی پہلا مقام دینے پر سخت اعتراض جتاتے ہوئے کہاکہ ریاستی زبان کی اپنی شناخت ، تہذیب اور سب سے بڑھ کر عوامی رابطہ کی اہم کڑی ہوتی ہے انہوں نے اپیل کی کہ اس پر حکومتیں توجہ دیتے ہوئے آگے بڑھیں۔
’کلیان کرناٹک ۔کل،آج ،کل ‘ کے عنوان پر منعقدہ مذاکرے میں کنڑا جہدکار کے نیلا نے کنڑا ساہتیہ پریشدبنگلورو کے صدر منو بلیگار کے طریقہ کار کی سخت تنقید کرتےہوئے کہاکہ کنڑا ساہتیہ پریشد ریاست کے 6کروڑ عوام کانمائندہ ادارہ ہے ، اب وہ برسر اقتدار والوں کے ماتحت ہوگیا ہے ، اس ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے انہوں نے منو بلیگار سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جو بھی امداد دیتی ہے وہ دراصل عوامی ٹیکس کی رقم ہوتی ہے، انہوں نے ضلعی ادبی اجلاس کے لئے امداد منظور نہ کرنے پر حکومت کی مذمت کی۔ اسی طرح انہوں نے کوپل ضلع کے ادبی اجلاس میں سی اے اے کے خلاف اپنی نظم پیش کرنےو الے سراج بسرولی کے خلاف معاملہ درج کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ نظم پرواز کرنے والا ایک پرندہ ہے، اس کو آزادی کے ساتھ پرواز کرنے دیں نہ کہ قید کرکے رکھیں۔انہوں نے اس موقع پر سراج کے خلاف دائر مقدمہ واپس لینے کا بھی مطالبہ کیا۔
کے نیلا نے بیدر کے شاہین اسکول معاملے کی بھی کڑی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ وزیراعظم کی ہتک کے بہانے ایک تعلیمی ادارے کے خلاف معاملہ درج کرنا اور بچوں کو ذہنی طور پر ہراساں کرنا صحیح نہیں ہے ، انہوں نے مانگ کی کہ ان پر جو بھی مقدمات درج کئے گئے ہیں انہیں واپس لیا جائے۔